منگل 8 ستمبر 2026 - 11:17
حوزہ علمیہ کی تمام سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا منصوبہ، مصنوعی ذہانت سے بھی استفادہ ہوگا

حوزہ/ حوزہ علمیہ قم نے اپنی تعلیمی، تحقیقی، تبلیغی اور دیگر سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینے کے لیے متعدد نئے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا وسیع استعمال، قم و نجف کے علمی روابط میں اضافہ، غیر ملکی اساتذہ و ماہرین کے لیے مختصر مدتی کورسز اور بین الاقوامی دینی خدمات کا نظام شامل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے نئے تعلیمی سال کے لیے بین الاقوامی امور کے شعبے کے نئے منصوبوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کو مرحلہ وار عملی شکل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حوزہ علمیہ کی مختلف سرگرمیوں، معاونتوں، تخصصی مراکز اور صوبائی اداروں کے لیے بین الاقوامی پہلو تیار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حوزہ میں ہونے والے علمی، تحقیقی، تعلیمی اور ثقافتی پروگراموں کو دیگر ممالک کے لوگوں سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

حجۃالاسلام حسینی کوہساری نے بین الاقوامی تبلیغ کے طریقوں میں بھی تبدیلی اور وسعت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید آن لائن ذرائع سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کے لوگوں تک دینی پیغام زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بھی ان منصوبوں کا اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ تعلیم، تحقیق، بین الاقوامی روابط، ترجمہ اور دینی و علمی مواد کی تیاری و اشاعت میں مصنوعی ذہانت سے وسیع پیمانے پر استفادہ کیا جائے گا۔

حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے قم اور نجف کے علمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق شیعہ اور سنی مدارس اور معتبر علمی و مذہبی اداروں کے ساتھ علمی اور ثقافتی روابط کو بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی حالات اور تبدیلیوں پر نظر رکھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور مستقبل کے لیے مطالعات انجام دینے کی غرض سے ایک بین الاقوامی مطالعاتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔

حجۃالاسلام حسینی کوہساری کے مطابق بیرونِ ملک رہنے والے اساتذہ، دانشوروں اور اسلامی علوم میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مختصر مدتی تعلیمی کورسز کا بھی اہتمام کیا جائے گا، تاکہ وہ حوزہ کے علمی و تعلیمی پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میدان کے لیے ماہرین، اساتذہ اور علمی شخصیات کی تربیت بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حوزہ کے اساتذہ، فقہا، مفسرین اور دیگر ماہرین کو بین الاقوامی امور اور مختلف زبانوں سے آشنا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے آخر میں بین الاقوامی دینی خدمات کا آن لائن نظام اور ایرانی و غیر ایرانی اساتذہ و ماہرین کی مشترکہ تخصصی انجمنیں قائم کرنے کو بھی نئے منصوبوں میں شامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد حوزہ علمیہ کی علمی اور دینی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha